حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،کرگل-لداخ/ مرکزی نمازِ جمعہ کرگل، لداخ میں 11 جمادی الاول 1448ھ کو حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ غلام علی مفیدی نے خطبۂ جمعہ کے دوران جوانی کی اہمیت، نوجوانوں کی تربیت، معاشرتی اخلاق اور ایامِ فاطمیہ کے پیغامات پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے فرمان سے استناد کرتے ہوئے نوجوانوں کے اذہان و کردار کی تعمیر میں تربیت، ماحول اور صحبت کے بنیادی کردار کو واضح کیا۔

نوجوانوں کی تربیت معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے
مولانا شیخ غلام علی مفیدی نے نوجوانوں کی تربیت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے اس فرمان کا حوالہ دیا:
’’نوجوان کا دل ایک خالی زمین کی مانند ہے؛ اس میں جو چیز بھی ڈالی جائے، وہ اسے قبول کر لیتا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جس طرح زمین میں اچھا بیج بویا جائے تو اچھی فصل حاصل ہوتی ہے، اسی طرح نوجوانوں کے ذہن و کردار میں پروان چڑھنے والے خیالات، عادات اور اخلاقی اقدار مستقبل میں ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اسی لیے نئی نسل کی فکری، اخلاقی اور دینی تربیت پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔
انہوں نے جوانی کو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی حفاظت صرف جسمانی صحت تک محدود نہیں، بلکہ روحانی، فکری اور اخلاقی سلامتی بھی اس میں شامل ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی توانائی اور صلاحیتوں کو فضول مشاغل میں ضائع کرنے کے بجائے علم، عبادت، خدمتِ خلق اور مفید سرگرمیوں میں صرف کریں۔
انہوں نے رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جوانی اور صحت ایسی نعمتیں ہیں جن کی حقیقی قدر کا احساس اکثر ان کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد ہوتا ہے۔ لہٰذا انسان کو اپنی صحت اور جوانی کی قدر کرتے ہوئے ان سے بھرپور اور مثبت فائدہ اٹھانا چاہیے۔
والدین بچوں کی تربیت میں محبت اور حکمت سے کام لیں
مرکزی امامِ جمعہ کرگل نے نوجوانوں کی تربیت میں والدین کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کی صحیح رہنمائی کے لیے غیر ضروری سختی اور پابندیوں کے بجائے محبت، حکمت، اعتماد اور ذمہ داری کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ والدین کو اپنے بچوں کی صحبت، معمولات اور سرگرمیوں سے باخبر رہنا چاہیے، ان کے مسائل توجہ سے سننے چاہییں اور انہیں اچھے اور برے ماحول میں فرق سمجھانا چاہیے۔ اچھی صحبت انسان کو علم، اخلاق اور نیکی کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ بری صحبت رفتہ رفتہ اسے غلط راستوں پر ڈال سکتی ہے۔
انہوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول فرمان ’’میں تمہیں نوجوانوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کرتا ہوں‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کے ساتھ حسنِ سلوک کا تقاضا صرف نصیحت کرنا نہیں، بلکہ ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے، تعلیم و روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور ان کے مسائل کو سمجھنے کے لیے عملی اقدامات کرنا بھی ہے۔
نوجوان حلال روزگار اور ہنرمندی کو اہمیت دیں
مولانا شیخ غلام علی مفیدی نے نوجوانوں کو حصولِ علم، ہنرمندی اور محنت کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ اسلام انسان کو جدوجہد، خودداری اور مفید کام کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ نوجوانوں کو اپنی دلچسپی اور صلاحیت کے مطابق علم حاصل کرنا، ہنر سیکھنا اور حلال روزگار کے ذریعے معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تجارت، زراعت، مویشی پالنے، دست کاری، تدریس اور دیگر جائز پیشوں کو کمتر نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ انسان کی حقیقی عزت اس کے عہدے یا آمدنی سے نہیں، بلکہ اس کی دیانت داری، محنت اور کردار سے متعین ہوتی ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کو بے روزگاری کی صورت میں مایوسی اور بے عملی کا شکار ہونے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور خود روزگار کے امکانات تلاش کرنے کی تلقین کی۔ ان کے مطابق، دیانت داری کے ساتھ انجام دیا جانے والا حلال کام عزت و برکت کا ذریعہ ہے، جبکہ سستی اور ذمہ داریوں سے فرار فرد اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
علم کے ساتھ ادب اور اخلاق بھی ضروری ہیں
خطبۂ جمعہ میں انہوں نے علم و ادب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علم انسان کو صحیح اور غلط میں امتیاز کرنا سکھاتا ہے، جبکہ ادب اسے اپنے علم اور صلاحیتوں کے درست استعمال کا شعور دیتا ہے۔ اگر علم کے ساتھ اخلاق، تواضع اور دوسروں کا احترام نہ ہو تو یہی علم معاشرے کے لیے فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کو دینی علوم کے ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی اور دیگر جدید علوم و پیشہ ورانہ مہارتوں کے حصول کی ترغیب دی اور کہا کہ معاشرے میں علماء، دینی معلمین اور محققین کی ضرورت کو سمجھنا چاہیے۔ علماء کی رہنمائی دینی مسائل کی صحیح تفہیم، اخلاقی اصلاح اور معاشرتی شعور کی بیداری میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دینی مسائل میں مستند اہلِ علم کی طرف رجوع کیا جائے اور علماء بھی اخلاص، حکمت اور ذمہ داری کے ساتھ معاشرے کی رہنمائی کریں۔
معاشرتی اخلاق کی اصلاح اور حقوق الناس کی ادائیگی پر تاکید
مولانا شیخ غلام علی مفیدی نے معاشرے میں پائی جانے والی اخلاقی برائیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ غیبت، تہمت، جھوٹ، تمسخر، گالم گلوچ اور دوسروں کی تذلیل ایسے اعمال ہیں جو انسان کے ایمان اور معاشرتی تعلقات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اسی طرح دوسروں کے حقوق پامال کرنا، پڑوسیوں کو تکلیف دینا، بزرگوں کی بے احترامی، چوری، مار پیٹ اور منشیات کا استعمال بھی معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو ان برائیوں سے محفوظ رکھنا صرف والدین کی ذمہ داری نہیں، بلکہ گھر، مدرسہ، اسکول، مسجد اور پورے معاشرے کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے حقوق الناس کی ادائیگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلام میں انسان کی عزت، جان، مال اور حقوق کا تحفظ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ عبادات کی پابندی کے ساتھ گفتگو، معاملات اور روزمرہ زندگی میں بھی اسلامی اخلاق کا مظاہرہ ضروری ہے۔ اسی طرح نوجوانوں میں حیا، عفت، پاکیزہ تعلقات اور شرعی حدود کی رعایت کا شعور پیدا کیا جانا چاہیے۔

ایامِ فاطمیہ اہلِ بیتؑ کی تعلیمات پر عمل کا موقع ہیں
خطبۂ دوم میں شیخ غلام علی مفیدی نے ایامِ فاطمیہ کی مناسبت سے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت، سیرت، مظلومیت اور دینی مقام پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ایامِ فاطمیہ محض غم و عزاداری کے ایام نہیں، بلکہ اپنی دینی ذمہ داریوں کو سمجھنے، اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرنے اور اپنی زندگیوں کی اصلاح کرنے کا اہم موقع بھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی عبادت، تقویٰ، صبر، حق گوئی، ایثار اور خدمتِ خلق کی روشن مثال ہے۔ آپؑ کی سیرت خواتین، ماؤں، بیٹیوں اور پوری انسانیت کے لیے اخلاقی و روحانی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایامِ فاطمیہ کی مجالس کا مقصد صرف تاریخی واقعات کو یاد کرنا نہیں، بلکہ ان سے حاصل ہونے والے دینی، اخلاقی اور اجتماعی اسباق کو عملی زندگی میں نافذ کرنا بھی ہے۔ ان مجالس کے ذریعے نئی نسل کو سیرتِ زہرا سلام اللہ علیہا سے روشناس کرانے اور معاشرے میں علم و معرفت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت حق و انصاف کا درس دیتی ہے
مرکزی امامِ جمعہ کرگل نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مقام و منزلت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپؑ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبوب دختر، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی زوجہ اور امام حسن و امام حسین علیہما السلام کی مادرِ گرامی ہیں۔ مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام میں آپؑ کو عظیم روحانی، اخلاقی اور دینی مقام حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت ہمیں حق کی حمایت، ظلم و ناانصافی کے مقابلے میں اصولی موقف اختیار کرنے، عبادت میں اخلاص اور خاندانی و معاشرتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا درس دیتی ہے۔ آپؑ کی زندگی اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ دین داری صرف انفرادی عبادات تک محدود نہیں، بلکہ مظلوموں کی حمایت، معاشرے کی اصلاح اور حق کے دفاع کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا بھی اس کا حصہ ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت سے حقیقی استفادہ اسی وقت ممکن ہے جب ان کی تعلیمات کو اپنی عبادات، معاملات، خاندانی زندگی اور معاشرتی رویوں میں جگہ دی جائے۔

امامِ زمانہؑ سے محبت کا تقاضا سیرتِ اہلِ بیتؑ پر عمل ہے
مولانا شیخ غلام علی مفیدی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے خاندانِ نبوت اور سلسلۂ امامت سے تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف بھی اسی پاکیزہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ امامِ زمانہؑ کی معرفت اور ان کے ظہور کا انتظار مکتبِ اہلِ بیتؑ کے بنیادی موضوعات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ امامِ زمانہؑ سے محبت اور ان کے حقیقی منتظر ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے مطابق ڈھالے۔ سچائی، امانت، انصاف، حیا، عفت اور دوسروں کے حقوق کی رعایت ہماری عملی زندگی کا نمایاں حصہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے ایامِ فاطمیہ کی مجالس کو معرفت، اتحاد اور اصلاحِ معاشرہ کا ذریعہ بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عزاداری کا حقیقی اثر اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب مجالس میں بیان ہونے والی تعلیمات ہمارے کردار میں نظر آئیں۔ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی مظلومیت کو یاد کرنے کے ساتھ دوسروں کے حقوق کی حفاظت، آپؑ کی عبادت کا ذکر کرنے کے ساتھ اپنی بندگی میں اخلاص اور آپؑ کی حق گوئی سے درس لیتے ہوئے اپنی زندگی میں سچائی و انصاف کو اختیار کرنا ضروری ہے۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے نوجوانوں کی حفاظت، ان کی دینی و اخلاقی تربیت، حلال روزگار کے مواقع، معاشرتی اتحاد اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے دعا کی اور اللہ تعالیٰ سے توفیق طلب کی کہ مؤمنین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی صحیح معرفت حاصل کریں، سیرتِ اہلِ بیت علیہم السلام پر عمل کریں اور امامِ زمانہ حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے حقیقی منتظرین میں شامل ہوں۔










آپ کا تبصرہ